Report - Imam Ahmad Raza Conference 2010

 

ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی کے زیرِ اہتمام 30ویں سالانہ امام احمد رضا کانفرنس کا انعقاد 10 اپریل 2010ء کو شیخ زاید اسلامک سینٹر، جامعہ کراچی میں کیا گیا۔

 

کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا امام احمد رضا خاں اپنے وقت کی عظیم اور نابغہٴ روزگار شخصیت تھے۔ اُن کی تعلیمات کی روشنی میں موجودہ دور کے کئی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔  پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا نے ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے کام کو بے حد سراہا۔ جامعہ ملیہ کالج آف ایجوکیشن، ملیر کے پرنسپل پروفیسر دلاور خان نے اپنا مقالہ امام احمد رضا اور فکری اختلافات کے حوالے سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام موصوف نے فکری اختلافات کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور اُمت مسلمہ کو اس ضمن میں کافی رعایتیں عطا کی ہیں۔ شیخ زاید اسلامک سینٹر کے پروفیسر سیّد غضنفر علی نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا خاں کے معاشی نکات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ جس زمانے میں مسلمان معاشی و معاشرتی بدحالی کا شکار تھے، مولانا احمد رضا نے مسلمانوں کو تدبیرِ فلاح و نجات و اصلاح کے نام سے معاشی ترقی کی راہ سجھائی۔ انڈیا سے آئے ہوئے مہمان علامہ مولانا محمد حنیف خاں رضوی نے اپنے مقالے میں امام احمد رضا کی عبقری شخصیت اور ان کے تبحر علمی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کئی فنون پر مہارت رکھتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے امام موصوف کی حدیث دانی اور عربی دانی کے حوالے سے اُن کی کتب و تصانیف کا ذکر کیا۔ سندھ یونیورسٹی، جامشورو میں شعبہٴ عربی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عبد الغنی کانفرنس کے مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے امام احمد رضا کے اردو ترجمہٴ قرآن کنزالایمان کے بارے میں کہا کہ یہ اردو زبان میں قرآن پاک کا بہترین ترجمہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے دیگر اردو تراجمِ قرآن سے تقابل کرتے ہوئے بتایا کہ دوسرے کچھ تراجم میں مترجمین نے دانستہ یا نادانستہ فاش غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے جبکہ کنزالایمان ایسی تمام چیزوں سے پاک ہے۔ مولانا ڈاکٹر برہان الدین رومی نے امام صاحب کے فارسی کلام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فارسی کلام کے چند حصے مخصوص فارسی انداز میں سنائے۔ میرزا امجد رازی نے مولانا احمد رضا کی نعت گوئی پر کمال اور اس کے محاسن کو اجاگر کیا۔ کانفرنس میں جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر سیّد اظہر علی، پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ قادری، پروفیسر سیّد شمائل علی، اردو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسن امام، سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر انوار احمد خان، پروفیسر ڈاکٹر ممتاز بھٹو سمیت مولانا انوار احمد امجدی، صاحبزادہ سیّد وجاہت رسول قادری، حاجی عبداللطیف قادری، ممتاز ماہرِ تعلیم سلطان مسعود شیخ، معروف ادیب و افسانہ نگار اشرف جہانگیر، ندیم احمد ندیم قادری، شاہنواز قادری، مرزا فرقان احمد اور دیگر کئی علمائے کرام، پروفیسرز اور اسکالر حضرات نے شرکت کی۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے انجام دیے۔

 

 

Poll

what about the new look?
 

Who's Online

We have 4 guests online